لکھنؤ،3جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقات کے بعد کابینہ وزیر اوم پرکاش راج بھر نے اپنا دھرنا منسوخ کر دیا ہے۔راج بھر نے بتایا کہ انہوں نے سی ایم یوگی کے سامنے اپنے 19مطالبات رکھے تھے جن میں سے 17مطالبات مان لئے گئے ہیں اور دو مطالبات پر سی ایم نے غور کرنے کا یقین دلایا ہے۔اوم پرکاش راج بھرایس بی ایس پی پارٹی کے لیڈر ہیں۔ سہیل دیو بھارتیہ سماج وادی پارٹی پسماندہ طبقے کی نمائندگی کرتی ہے۔ایس بی ایس پی نے کل 8سیٹ پر الیکشن لڑا تھا، جن میں سے اسے چار سیٹوں پر کامیابی ملی تھی،اس پارٹی کے سربراہ اوم پرکاش راج بھر ہے، جنہیں یوگی حکومت نے اپنی کابینہ میں پسماندہ طبقے کے بہبود وزیر اور معذور وزارت دی ہے۔
زمین کے ایک تنازعہ کے سبب اوم پرکاش راج بھر، دھرنے پر بیٹھنے والے تھے۔معاملے کا آغاز 14جون 2017کو غازی پور سے ہواتھا۔رامپور گاؤں میں ایک زمین کا ناپ لینے کے لئے سرکاری ٹیم رامپور گاؤں پہنچی،اس کی بھنک ملنے کے ساتھ بڑی تعداد میں لوگوں نے راجسوکرمیو کو گھیر لیا،لمبائی کی پیمائش روکنے کی درخواست مارپیٹ تک پہنچ گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ غیر قانونی قبضہ ہٹانے سے روکنے کے لئے دھرنا ہو رہا ہے۔دلچسپ یہ بھی ہے 11مئی کو قاسم آباد میں وزیر نے بھی اسٹیج سے بولا تھا کہ ان کا کوئی کارکن غلطی کی پیروی کرے تو لاٹھی سے مارو۔اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے راج بھر کو فون کرکے منانے کی کوشش بھی کی تھی، لیکن راج بھر اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوئے تھے۔